مؤطا امام مالک — حدیث #۳۶۲۱۲
حدیث #۳۶۲۱۲
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، أَنَّهُ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ . ثُمَّ زَادَ شَيْئًا مَعَ ذَلِكَ أَيْضًا . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ قَدْ ذَهَبَ بَصَرُهُ مَنْ هَذَا قَالُوا هَذَا الْيَمَانِيُّ الَّذِي يَغْشَاكَ . فَعَرَّفُوهُ إِيَّاهُ . قَالَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ السَّلاَمَ انْتَهَى إِلَى الْبَرَكَةِ . قَالَ يَحْيَى سُئِلَ مَالِكٌ هَلْ يُسَلَّمُ عَلَى الْمَرْأَةِ فَقَالَ أَمَّا الْمُتَجَالَّةُ فَلاَ أَكْرَهُ ذَلِكَ وَأَمَّا الشَّابَّةُ فَلاَ أُحِبُّ ذَلِكَ .
محمد بن عمرو بن عطاء سے روایت ہے کہ میں بیٹھا ہوا تھا عبداللہ بن عباس کے پاس اتنے میں ایک شخص یمن کا رہنے والا آیا اور بولا السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ اور اس پر بھی کچھ زیادہ کیا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی ان دنوں بینائی جاتی رہی تھی انہوں نے کہا یہ کون ہے لوگوں نے کہا یہ وہی یمن کا رہنے والا ہے جو آیا کرتا ہے آپ کے پاس اور پتہ دیا اس کا یہاں تک کہ ابن عباس پہچان گئے اس کو ابن عباس نے کہا سلام ختم ہو گیا وبرکاتہ پر اس سے زیادہ نہ بڑھانا چاہئے کہا یحیی نے سوال ہوا مالک سے مرد سلام کرے عورت پر انہوں نے کہا بڑھیا پر تو کچھ قباحت نہیں لیکن جوان پر اچھا نہیں ۔
ماخذ
مؤطا امام مالک # ۵۳/۱۷۵۷
درجہ
Mauquf Sahih
زمرہ
باب ۵۳: سلام