مؤطا امام مالک — حدیث #۳۴۸۷۰
حدیث #۳۴۸۷۰
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ، أَنَّهُ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَالِسٌ بَيْنَ ظَهْرَانَىِ النَّاسِ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ فَسَارَّهُ فَلَمْ يُدْرَ مَا سَارَّهُ بِهِ حَتَّى جَهَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِذَا هُوَ يَسْتَأْذِنُهُ فِي قَتْلِ رَجُلٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ جَهَرَ " أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ " . فَقَالَ الرَّجُلُ بَلَى وَلاَ شَهَادَةَ لَهُ . فَقَالَ " أَلَيْسَ يُصَلِّي " . قَالَ بَلَى وَلاَ صَلاَةَ لَهُ . فَقَالَ صلى الله عليه وسلم " أُولَئِكَ الَّذِينَ نَهَانِي اللَّهُ عَنْهُمْ " .
عبیداللہ بن عدی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے لوگوں میں، اتنے میں ایک شخص آیا اور کان میں کچھ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کہنے لگا ہم کو خبر نہیں ہوئی کیا کہتا ہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پکار کر بول اٹھے تب معلوم ہوا وہ شخص حضرت سے ایک منافق کے قتل کی اجازت چاہتا تھا تو جب پکار اٹھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو فرمایا کیا وہ شخص گواہی نہیں دیتا اس امر کی کہ کوئی معبود حق نہیں ہے سوا اللہ کے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم بے شک اس کے رسول ہیں اس شخص نے کہا ہاں مگر اس کی گواہی کا کچھ اعتبار نہیں تب فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا وہ نماز نہیں پڑھتا بولا ہاں پڑھتا ہے لیکن اس کی نماز کا کچھ اعتبار نہیں ہے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں کے قتل سے منع کیا ہے مجھ کو اللہ نے ۔
ماخذ
مؤطا امام مالک # ۹/۴۱۵
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۹: نماز قصر