مؤطا امام مالک — حدیث #۳۴۸۸۱
حدیث #۳۴۸۸۱
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ، يَقُولُ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ ثَائِرُ الرَّأْسِ يُسْمَعُ دَوِيُّ صَوْتِهِ وَلاَ نَفْقَهُ مَا يَقُولُ حَتَّى دَنَا فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُ عَنِ الإِسْلاَمِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ " . قَالَ هَلْ عَلَىَّ غَيْرُهُنَّ قَالَ " لاَ إِلاَّ أَنْ تَطَّوَّعَ " . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَصِيَامُ شَهْرِ رَمَضَانَ " . قَالَ هَلْ عَلَىَّ غَيْرُهُ قَالَ " لاَ إِلاَّ أَنْ تَطَّوَّعَ " . قَالَ وَذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الزَّكَاةَ . فَقَالَ هَلْ عَلَىَّ غَيْرُهَا قَالَ " لاَ إِلاَّ أَنْ تَطَّوَّعَ " . قَالَ فَأَدْبَرَ الرَّجُلُ وَهُوَ يَقُولُ وَاللَّهِ لاَ أَزِيدُ عَلَى هَذَا وَلاَ أَنْقُصُ مِنْهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَفْلَحَ الرَّجُلُ إِنْ صَدَقَ " .
طلحہ بن عبیداللہ سے روایت ہے کہ وہ کہتے تھے کہ آیا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نجد کا رہنے والا اس کے سر کے بال بکھرے ہوئے تھے اور اس کی آواز کی بھنبھناہٹ سنائی دیتی تھی لیکن اس کی بات سمجھ میں نہ آتی تھی یہاں تک کہ قریب آیا تو وہ پوچھتا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام کے معنی فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ نمازیں پڑھنا رات دن میں تب وہ شخص بولا سوا ان کے اور بھی کوئی نماز مجھ پر ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں مگر نفل پڑھنا چاہے تو تو پڑھ فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور روزے رمضان کے بولا سوا ان کے اور بھی کوئی روزہ مجھ پر ہے فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں مگر نفل رکھے تو پھر ذکر کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوة کا وہ شخص بولا اس کے سوا بھی کچھ صدقہ مجھ پر فرض ہے فرمایا نہیں مگر اگر اللہ چاہے تو دے پس پیٹھ موڑ کر چلا وہ شخص تب فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیڑا اس کا پار ہوا اگر سچ بولا ۔
ماخذ
مؤطا امام مالک # ۹/۴۲۶
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۹: نماز قصر