مؤطا امام مالک — حدیث #۳۵۳۹۷

حدیث #۳۵۳۹۷
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْخُرَاسَانِيِّ، أَنَّهُ قَالَ حَدَّثَنِي شَيْخٌ، بِسُوقِ الْبُرَمِ بِالْكُوفَةِ عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ جَاءَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا أَنْفُخُ تَحْتَ قِدْرٍ لأَصْحَابِي وَقَدِ امْتَلأَ رَأْسِي وَلِحْيَتِي قَمْلاً فَأَخَذَ بِجَبْهَتِي ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ احْلِقْ هَذَا الشَّعَرَ وَصُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ ‏"‏ ‏.‏ وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلِمَ أَنَّهُ لَيْسَ عِنْدِي مَا أَنْسُكُ بِهِ ‏.‏
کعب بن عجرہ سے روایت ہے کہ آئے میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور میں ہانڈی پھونک رہا تھا اپنے ساتھیوں کی اور میرے سر اور ڈاڑھی کے بال جوؤں سے بھر گئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری پیشانی تھام کر فرمایا ان بالوں کو منڈوا ڈال اور تین روزے رکھ یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے کہ میرے پاس قربانی کے واسطے کچھ نہیں ہے ۔ کہا مالک نے جس شخص نے اپنے ناک کے بال اکھاڑے یا بغل کے یا بدن پر نورہ لگایا یا سر میں زخم ہوا اور ضروت کی وجہ سے سر منڈوایا یا گدی کے بال منڈوائے پچھنے لگانے کے واسطے احرام میں، اگر بھولے سے یا نادانی سے یہ کام کرے تو ان سب صورتوں میں اس پر فدیہ ہے اور محرم کو درست نہیں کہ پچھنے لگانے کی جگہ مونڈے ۔ کہا مالک نے جو شخص نادانی سے کنکریاں مارنے سے پہلے سر منڈا لے تو فدیہ دے۔
ماخذ
مؤطا امام مالک # ۲۰/۹۴۲
درجہ
Sahih Lighairihi
زمرہ
باب ۲۰: حج
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث
موضوعات: #Fasting #Charity #Mercy #Mother

متعلقہ احادیث