مؤطا امام مالک — حدیث #۳۴۸۹۸
حدیث #۳۴۸۹۸
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ إِذَا سُئِلَ عَنْ صَلاَةِ الْخَوْفِ، قَالَ يَتَقَدَّمُ الإِمَامُ وَطَائِفَةٌ مِنَ النَّاسِ فَيُصَلِّي بِهِمُ الإِمَامُ رَكْعَةً وَتَكُونُ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْعَدُوِّ لَمْ يُصَلُّوا فَإِذَا صَلَّى الَّذِينَ مَعَهُ رَكْعَةً اسْتَأْخَرُوا مَكَانَ الَّذِينَ لَمْ يُصَلُّوا وَلاَ يُسَلِّمُونَ وَيَتَقَدَّمُ الَّذِينَ لَمْ يُصَلُّوا فَيُصَلُّونَ مَعَهُ رَكْعَةً ثُمَّ يَنْصَرِفُ الإِمَامُ وَقَدْ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَتَقُومُ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ فَيُصَلُّونَ لأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً رَكْعَةً بَعْدَ أَنْ يَنْصَرِفَ الإِمَامُ فَيَكُونُ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ قَدْ صَلَّوْا رَكْعَتَيْنِ فَإِنْ كَانَ خَوْفًا هُوَ أَشَدَّ مِنْ ذَلِكَ صَلَّوْا رِجَالاً قِيَامًا عَلَى أَقْدَامِهِمْ أَوْ رُكْبَانًا مُسْتَقْبِلِي الْقِبْلَةِ أَوْ غَيْرَ مُسْتَقْبِلِيهَا .
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر سے جب سوال ہوتا نماز خوف کا کہتے امام آگے بڑھے نماز کو اور کچھ لوگ اس کے پیچھے ہوں تو ان کو امام ایک رکعت پڑھائے اور کچھ لوگ دشمن کے سامنے ہوں تو جب وہ لوگ جو امام کے پیچھے تھے ایک رکعت پڑھ چکیں دشمن کے سامنے چلے جائیں اور سلام نہ پھیریں اور وہ لوگ چلے آئیں جہنوں نے نماز نہیں شروع کی اب وہ لوگ امام کے پیچھے ایک رکعت پڑھیں پھر امام سلام پھیر دے اور باری باری ہر ہر گروہ کے لوگ آکر ایک ایک رکعت اور پڑھ کر نماز اپنی تمام کریں تاکہ ہر ایک گروہ کی دو دو رکعتیں ہو جائیں اور اگر خوف بہت سخت ہو تو کھڑے کھڑے پیادے نماز پڑھ لیں اشارے سے اور سوار سواری پر اگرچہ منہ ان کا قبلہ کی طرف نہ ہو ۔
ماخذ
مؤطا امام مالک # ۱۱/۴۴۳
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۱۱: نماز خوف