مؤطا امام مالک — حدیث #۳۵۰۲۹

حدیث #۳۵۰۲۹
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ الدِّيلِيِّ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ بْنِ رِبْعِيٍّ، أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ ‏:‏ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُرَّ عَلَيْهِ بِجَنَازَةٍ فَقَالَ ‏:‏ ‏"‏ مُسْتَرِيحٌ وَمُسْتَرَاحٌ مِنْهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا ‏:‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْمُسْتَرِيحُ وَالْمُسْتَرَاحُ مِنْهُ قَالَ ‏:‏ ‏"‏ الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ يَسْتَرِيحُ مِنْ نَصَبِ الدُّنْيَا وَأَذَاهَا إِلَى رَحْمَةِ اللَّهِ، وَالْعَبْدُ الْفَاجِرُ يَسْتَرِيحُ مِنْهُ الْعِبَادُ وَالْبِلاَدُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ ‏"‏ ‏.‏
ابوقتادہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر گزرا ایک جنازہ تو فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مستریخ ہے یا مستراح منہ، صحابہ نے پوچھا مستریح کسے کہتے ہیں اور مستراح منہ، کسے کہتے ہیں فرمایا بندہ مومنی مستریح ہے یعنی جب مر جاتا ہے تو دنیا کی تکلیفوں اور اذیتوں سے نجات پا کر اللہ تعالیٰ کی رحمت میں راحت پاتا ہے اور بندہ مستراح منہ ہے جب وہ مر جاتا ہے تو لوگوں کو بستیوں کو اور درختوں کو اور جانوروں کو اس سے راحت ہوتی ہے ۔
ماخذ
مؤطا امام مالک # ۱۶/۵۷۴
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۱۶: جنازہ
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث
موضوعات: #Mercy #Mother #Death

متعلقہ احادیث