مؤطا امام مالک — حدیث #۳۵۰۹۶

حدیث #۳۵۰۹۶
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَىٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، يَقُولُ كُنْتُ أَنَا وَأَبِي، عِنْدَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ - وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ - فَذُكِرَ لَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا أَفْطَرَ ذَلِكَ الْيَوْمَ ‏.‏ فَقَالَ مَرْوَانُ أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ لَتَذْهَبَنَّ إِلَى أُمَّىِ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ فَلَتَسْأَلَنَّهُمَا عَنْ ذَلِكَ فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَذَهَبْتُ مَعَهُ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ فَسَلَّمَ عَلَيْهَا ثُمَّ قَالَ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّا كُنَّا عِنْدَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ فَذُكِرَ لَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا أَفْطَرَ ذَلِكَ الْيَوْمَ ‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ لَيْسَ كَمَا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَتَرْغَبُ عَمَّا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصْنَعُ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لاَ وَاللَّهِ ‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ فَأَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ غَيْرِ احْتِلاَمٍ ثُمَّ يَصُومُ ذَلِكَ الْيَوْمَ ‏.‏ قَالَ ثُمَّ خَرَجْنَا حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ فَقَالَتْ مِثْلَ مَا قَالَتْ عَائِشَةُ ‏.‏ قَالَ فَخَرَجْنَا حَتَّى جِئْنَا مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ فَذَكَرَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مَا قَالَتَا فَقَالَ مَرْوَانُ أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ لَتَرْكَبَنَّ دَابَّتِي فَإِنَّهَا بِالْبَابِ فَلْتَذْهَبَنَّ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ فَإِنَّهُ بِأَرْضِهِ بِالْعَقِيقِ فَلْتُخْبِرَنَّهُ ذَلِكَ ‏.‏ فَرَكِبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَرَكِبْتُ مَعَهُ حَتَّى أَتَيْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ فَتَحَدَّثَ مَعَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ سَاعَةً ثُمَّ ذَكَرَ لَهُ ذَلِكَ فَقَالَ لَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ لاَ عِلْمَ لِي بِذَاكَ إِنَّمَا أَخْبَرَنِيهِ مُخْبِرٌ ‏.‏
ابوبکر بن عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ میں اور میرے باپ عبدالرحمن دونوں بیٹھے مروان بن حکم کے پاس اور مروان ان دنوں میں حاکم تھے مدینہ کے تو ان سے ذکر کیا گیا کہ ابوہریرہ کہتے ہیں جو شخص جنبی ہو اور صبح ہو جائے تو اس کا روزہ نہ ہوگا مروان نے کہا قسم دیتا ہوں تم اے عبدالرحمن تم جاؤ ام المومنین حضرت عائشہ اور ام المومنین ام سلمہ کے پاس اور پوچھو ان سے یہ مسئلہ تو گئے عبدالرحمن اور گیا میں ساتھ ان کے یہاں تک کہ پہنچے ہم ام المومنین عائشہ کے پاس تو سلام کیا ان کو عبدالرحمن نے پھر کہا اے ام المومنین ہم بیٹھے تھے مروان بن حکم کے پاس ان سے ذکر ہوا کہ ابوہریرہ کہتے ہیں جس شخص کو صبح ہو جائے اور وہ جنبی ہو تو اس کا روزہ نہ ہوگا فرمایا حضرت عائشہ نے ایسا نہیں ہے جیسا کہا ابوہریرہ نے اے عبدالرحمن کیا تو منہ پھیرتا ہے اس کام سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے کہا عبدالرحمن نے نہیں قسم اللہ کی فرمایا حضرت عائشہ نے میں گواہی دیتی ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کہ ان کو صبح ہو جاتی تھی اور وہ جنبی ہوتے تھے جماع سے نہ کہ احتلام سے پھر روزہ رکھتے اس دن کا ۔ کہا ابوبکر نے پھر نکلے ہم یہاں تک کہ پہنچے ام المومنین سلمہ کے پاس اور پوچھا ہم نے ان سے اس مسئلہ کو انہوں نے بھی یہ کہا جو حضرت عائشہ نے کہا کہا ابوبکر نے پھر نکلے ہم اور آئے مروان بن حکم کے پاس ان سے عبدالرحمن نے بیان کیا قول حضرت عائشہ اور ام سلمہ کا تو کہا مروان نے قسم دیتا ہوں میں تم کو اے ابومحمد تم سوار ہو کر جاؤ میرے جانور پر جو دروازہ پر ہے ابوہریرہ کے پاس کیونکہ وہ اپنی زمین میں ہے عقیق میں اور اطلاع کرو ان کو اس مسئلہ سے تو سوار ہوئے عبدالرحمن اور میں بھی ان کے ساتھ سوار ہوا یہاں تک کہ آئے ہم ابوہریرہ کے پاس تو ایک ساعت تک باتیں کیں ان سے عبدالرحمن نے پھر بیان کیا ان سے اس مسئلہ کو تو ابوہریرہ نے کہا مجھے علم نہیں تھا اس مسئلہ کا بلکہ ایک شخص نے مجھ سے بیان کیا تھا ۔
ماخذ
مؤطا امام مالک # ۱۸/۶۴۱
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۱۸: روزہ
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث
موضوعات: #Fasting #Mother

متعلقہ احادیث