مؤطا امام مالک — حدیث #۳۵۵۱۲

حدیث #۳۵۵۱۲
وقال عبد الله بن عمر: إن الكلب لو أكل بعض الصيد صح طعامه. سئل سعد بن أبي وقاص سؤال: إذا أكل الكلب المتعلم الفريسة بعد قتلها؟ قال سعد ما دام الجلد باقيا ولو نباتا واحدا. قال مالك: وسمعت أهل العلم يقولون: إن الصقور والنسور والصقور وأشباهها من الحيوانات إذا تعلمت وعقلت، كالكلاب المدربة تعقل، فحيواناتها المقتولة تصح أيضا، بشرط إطلاقها بالبسملة. وقال صاحبه: إذا أفلتت الفريسة من مخالب الصقر أو من فم الكلب وماتت فلا يصح أكلها. قال مالك: وما استطاع الرجل أن يذبحه، فلا يذبحه، وليبق في مخالب الصقر، أو في فم الكلب، حتى يقتله الصقر أو الكلب، ثم طعامه. غير صحيح
عبداللہ بن عمر کہتے ہیں اگرچہ وہ کتا اس شکار میں سے کچھ کھالے تب بھی اس کا کھانا درست ہے ۔ سعد بن ابی وقاص سے سوال ہوا کہ سیکھتا ہوا کتا اگر شکار کو مار کر کھالے تو؟ سعد نے کہا کہ تو کھالے جس قدر بچ رہے اگرچہ ایک ہی بوٹی ہو ۔ کہا مالک نے میں نے سنا اہل علم سے کہتے تھے کہ باز اور عقاب اور صقر اور جو جانور ان کے مشابہ ہیں اگر ان کو تعلیم دی جائے اور وہ سمجھدار ہو جائیں جیسے سکھائے ہوئے کتے سمجھدار ہوتے ہیں تو ان کا مارا ہوا جانور بھی درست ہے بشرطیکہ بسم اللہ کہہ کر چھوڑے جائیں ۔۔ کہا مالک نے اگر باز کے پنچے سے یا کتے کے منہ سے شکار چھوٹ کر مر جائے تو اس کا کھانا درست نہیں ۔ کہا مالک نے نے جس جانور کے ذبح کرنے پر آدمی قادر ہو جائے مگر اس کو ذبح نہ کرے اور باز کے پنجے یا کتے کے منہ میں رہنے دے یہاں تک کہ باز یا کتا اس کو مار ڈالے تو اس کا کھانا درست نہیں ۔
ماخذ
مؤطا امام مالک # ۲۵/۱۰۵۷
درجہ
Mauquf Hasan
زمرہ
باب ۲۵: شکار
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث
موضوعات: #Mother #Death #Knowledge

متعلقہ احادیث