مؤطا امام مالک — حدیث #۳۵۷۳۹

حدیث #۳۵۷۳۹
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَضَاعَةِ الْكَبِيرِ، فَقَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ أَبَا حُذَيْفَةَ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَكَانَ، مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَكَانَ تَبَنَّى سَالِمًا الَّذِي يُقَالُ لَهُ سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ كَمَا تَبَنَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ وَأَنْكَحَ أَبُو حُذَيْفَةَ سَالِمًا وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ ابْنُهُ أَنْكَحَهُ بِنْتَ أَخِيهِ فَاطِمَةَ بِنْتَ الْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَهِيَ يَوْمَئِذٍ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الأُوَلِ وَهِيَ مِنْ أَفْضَلِ أَيَامَى قُرَيْشٍ فَلَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى فِي كِتَابِهِ فِي زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ مَا أَنْزَلَ فَقَالَ ‏{‏ادْعُوهُمْ لآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ‏}‏ رُدَّ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْ أُولَئِكَ إِلَى أَبِيهِ فَإِنْ لَمْ يُعْلَمْ أَبُوهُ رُدَّ إِلَى مَوْلاَهُ فَجَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ وَهِيَ امْرَأَةُ أَبِي حُذَيْفَةَ وَهِيَ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَىٍّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنَّا نَرَى سَالِمًا وَلَدًا وَكَانَ يَدْخُلُ عَلَىَّ وَأَنَا فُضُلٌ وَلَيْسَ لَنَا إِلاَّ بَيْتٌ وَاحِدٌ فَمَاذَا تَرَى فِي شَأْنِهِ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَرْضِعِيهِ خَمْسَ رَضَعَاتٍ فَيَحْرُمُ بِلَبَنِهَا ‏"‏ ‏.‏ وَكَانَتْ تَرَاهُ ابْنًا مِنَ الرَّضَاعَةِ فَأَخَذَتْ بِذَلِكَ عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ فِيمَنْ كَانَتْ تُحِبُّ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهَا مِنَ الرِّجَالِ فَكَانَتْ تَأْمُرُ أُخْتَهَا أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَبَنَاتِ أَخِيهَا أَنْ يُرْضِعْنَ مَنْ أَحَبَّتْ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهَا مِنَ الرِّجَالِ وَأَبَى سَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهِنَّ بِتِلْكَ الرَّضَاعَةِ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ وَقُلْنَ لاَ وَاللَّهِ مَا نَرَى الَّذِي أَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَهْلَةَ بِنْتَ سُهَيْلٍ إِلاَّ رُخْصَةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي رَضَاعَةِ سَالِمٍ وَحْدَهُ لاَ وَاللَّهِ لاَ يَدْخُلُ عَلَيْنَا بِهَذِهِ الرَّضَاعَةِ أَحَدٌ فَعَلَى هَذَا كَانَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي رَضَاعَةِ الْكَبِيرِ ‏.‏
ابن شہاب سے سوال ہوا کہ بڑھ پن میں کوئی آدمی عورت کو دودھ پئے تو اس کا کیا حکم ہے انہوں نے کہا مجھ سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ خذیفہ بن عتبہ بن ریبعہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے اور جنگ بدر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے انہوں نے بیٹا بنایا تھا سالم کو تو سالم مولیٰ کہتے تھے انہوں بی خذیفہ کے جیسے زید کو بیٹا کیا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور ابوخذیفہ نے سالم کا نکاح اپنی بھتجی فاطمہ بنت ولد سے کر دیا تھا جو پہلے ہجرت کرنے والوں میں تھی اور تمام قریش کی ثیبہ عورتوں میں افضل تھی جب اللہ جل جلالہ نے اپنی کتاب میں اتارا زید بن حارثہ کے حق میں کہ ان کو کے باپو کا نام معلوم نہ ہوتا اپنے مالک کی طرف نسبت کئے جانے تو سہلہ بنت سہیل ابوحذیفہ کی جورو جو بنی عامر بن لوی کی اولاد میں سے تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم تو حضرت سالم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنا بچہ سمجھتے تھے ہم ننگے کھلے ہوتے تھے وہ اندر چلا آتا تھا اب کیا کرنا چاہئیے دوسرا گھر بھی ہمارے پاس نہیں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو پانچ بار دودھ پلادے تو وہ تیرا محرم ہوجائے گا ۔ پھر حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی نے ایسا ہی کیا اور سالم کو اپنا رضائی بیٹا سمجھنے لگی حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اسی حدیث پر عمل کرتیں تھی اور جس مرد کو چاہتیں کہ اپنے پاس آیا جایا کرے تو اپنی بہن ام کلثوم کو حکم کرتیں اور اپنی بھتیجیوں کو کہ اس شخص کو اپنا دودھ پلادیں لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور بیبیاں اس کا انکار کرتی تھیں کہ بڑے پن میں کوئی دودھ پی کر ان کا محرم بن جائے اور ان کے پاس آیا جایا کرے اور وہ یہ کہتی تھیں کہ یہ خاص رخصت تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے حضرت سہلہ بنت سہیل رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو قسم اللہ کی ایس رضاعت کی وجہ سے ہمارا کوئی محرم نہیں ہوسکتا۔
ماخذ
مؤطا امام مالک # ۳۰/۱۲۸۴
درجہ
Hasan
زمرہ
باب ۳۰: رضاعت
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث
موضوعات: #Mother #Marriage

متعلقہ احادیث