مؤطا امام مالک — حدیث #۳۵۸۹۶
حدیث #۳۵۸۹۶
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ مَا بَالُ رِجَالٍ يَنْحَلُونَ أَبْنَاءَهُمْ نُحْلاً ثُمَّ يُمْسِكُونَهَا فَإِنْ مَاتَ ابْنُ أَحَدِهِمْ قَالَ مَالِي بِيَدِي لَمْ أُعْطِهِ أَحَدًا . وَإِنْ مَاتَ هُوَ قَالَ هُوَ لاِبْنِي قَدْ كُنْتُ أَعْطَيْتُهُ إِيَّاهُ . مَنْ نَحَلَ نِحْلَةً فَلَمْ يَحُزْهَا الَّذِي نُحِلَهَا - حَتَّى يَكُونَ إِنْ مَاتَ لِوَرَثَتِهِ - فَهِيَ بَاطِلٌ .
کہا مالک نے جو شخص ثواب کے واسطے کسی کو کوئی شئے دے اس کا عوض نہ چاہتا ہو اور لوگوں کو اس پر گواہ کر دے تو وہ نافذ ہوجائے گا مگر جب دینے والا مرجائے معطی لہ کے قبضے سے پہلے ۔ اگر دینے والا یہ چاہے کہ بعد دینے کے اس کو رکھ چھوڑے تو یہ نہیں ہو سکتا معطی کہ جب چاہے تو جبراً اس سے لے سکتا ہے۔ کہا مالک نے ایک شخص نے ایک شئے لللہ دی پھر معطی لہ قبل قبضے کے مر گیا تو اس کے وارث اس کے قائم مقام ہوں گے اگر دینے والا قبل معطی لہ کے قبضے کے مر گیا تو اب اس کو کچھ نہ ملے گا کیونکہ قبضہ نہ ہونے کے سبب سے وہ ہبہ لغو ہوگیا اگر دینے والا اس کو روک رکھے اور ہبہ پر گواہ نہ ہوں گو یہ نہیں ہوسکتا جب معطی لہ لینے کو کھڑا ہوجائے تو لے سکتا ہے۔
ماخذ
مؤطا امام مالک # ۳۶/۱۴۴۱
درجہ
Mauquf Sahih
زمرہ
باب ۳۶: عدالتی فیصلے