مؤطا امام مالک — حدیث #۳۶۰۷۹
حدیث #۳۶۰۷۹
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، سُئِلَ عَنْ هَذِهِ الآيَةِ، {وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ} . فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُسْأَلُ عَنْهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى خَلَقَ آدَمَ ثُمَّ مَسَحَ ظَهْرَهُ بِيَمِينِهِ فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ ذُرِّيَّةً فَقَالَ خَلَقْتُ هَؤُلاَءِ لِلْجَنَّةِ وَبِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَعْمَلُونَ ثُمَّ مَسَحَ ظَهْرَهُ فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ ذُرِّيَّةً فَقَالَ خَلَقْتُ هَؤُلاَءِ لِلنَّارِ وَبِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ يَعْمَلُونَ " . فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَفِيمَ الْعَمَلُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ إِذَا خَلَقَ الْعَبْدَ لِلْجَنَّةِ اسْتَعْمَلَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَمُوتَ عَلَى عَمَلٍ مِنْ أَعْمَالِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيُدْخِلَهُ بِهِ الْجَنَّةَ وَإِذَا خَلَقَ الْعَبْدَ لِلنَّارِ اسْتَعْمَلَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى يَمُوتَ عَلَى عَمَلٍ مِنْ أَعْمَالِ أَهْلِ النَّارِ فَيُدْخِلَهُ بِهِ النَّارَ " .
مسلم بن یسار جہنی سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال ہوا اس آیت کے متعلق یعنی یاد کر اس وقت کو جب تیرے پروردگار نے آدم کی پیٹھ سے ان کی تمام اولاد کو نکالا اور ان کو گواہ کیا ان پر اس بات کا کیا میں نہیں ہوں پروردگار تمہارا، بولے کیوں نہیں تو پروردگار ہے ہمارا، ہم نے اس واسطے گواہ کیا کہ کہیں ایسا نہ کہو تم قیامت کے روز کہ ہم تو اس سے غافل تھے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی اس آیت کی تفسیر کا سوال ہوا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ جل جلالہ نے آدم کو پیدا کیا پھر ان میں اپنا داہنا ہاتھ پھیرا اور اولاد نکالی اور فرمایا میں نے ان کو جنت کے لئے پیدا کیا اور یہ لوگ جنیتوں کے کام کریں گے پھر بایاں ہاتھ پھیرا ان کی پیٹھ پر اور اولاد نکالی فرمایا میں نے ان کو جہنم کے لئے پیدا کیا اور یہ جہنموں کے کام کریں گے ایک شخص بولا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر عمل کرنے سے کیا فائدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب پیدا کرتا ہے کسی بندے کو جنت کے واسطے تو اس سے جنیتوں کے کام کراتا ہے اور موت کے وقت بھی وہ نیک عمل کرکے مرتا ہے تو اللہ جل جلالہ اسے جنت میں داخل کرتا ہے اور جب کسی بندے کو جہنم کے لئے پیدا کرتا ہے تو اس سے جہنیموں کے کام کراتا ہے یہاں تک کہ موت بھی اسے برے کام پر آتی ہے تو اسے جہنم میں داخل کرتا ہے ۔ امام مالک کو پہنچا کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ چھوڑے جاتا ہوں میں تم میں دو چیزوں کو نہیں گمراہ ہو گے جب تک پکڑے رہو گے ان کو، کتاب اللہ اور اس کے رسول کی سنت۔
ماخذ
مؤطا امام مالک # ۴۶/۱۶۲۴
درجہ
Daif
زمرہ
باب ۴۶: تقدیر
موضوعات:
#Death