مؤطا امام مالک — حدیث #۳۴۵۷۵
حدیث #۳۴۵۷۵
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ - أَوْ بِذَاتِ الْجَيْشِ - انْقَطَعَ عِقْدٌ لِي فَأَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْتِمَاسِهِ وَأَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ فَأَتَى النَّاسُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ فَقَالُوا أَلاَ تَرَى مَا صَنَعَتْ عَائِشَةُ أَقَامَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَبِالنَّاسِ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ . قَالَتْ عَائِشَةُ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاضِعٌ رَأْسَهُ عَلَى فَخِذِي قَدْ نَامَ فَقَالَ حَبَسْتِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالنَّاسَ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ قَالَتْ عَائِشَةُ فَعَاتَبَنِي أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ وَجَعَلَ يَطْعُنُ بِيَدِهِ فِي خَاصِرَتِي فَلاَ يَمْنَعُنِي مِنَ التَّحَرُّكِ إِلاَّ مَكَانُ رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى فَخِذِي فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى أَصْبَحَ عَلَى غَيْرِ مَاءٍ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى آيَةَ التَّيَمُّمِ فَتَيَمَّمُوا . فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ مَا هِيَ بِأَوَّلِ بَرَكَتِكُمْ يَا آلَ أَبِي بَكْرٍ . قَالَتْ فَبَعَثْنَا الْبَعِيرَ الَّذِي كُنْتُ عَلَيْهِ فَوَجَدْنَا الْعِقْدَ تَحْتَهُ .
عائشہ سے روایت ہے کہ ہم نکلے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی سفر میں تو جب پہنچے ہم بیدا یا ذات الجیش کو گلوبند میرا ٹوٹ کر گر پڑا تو ٹھہر گئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ڈھونڈنے کے لئے اور لوگ بھی ٹھہر گئے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور وہاں پانی نہ تھا اور نہ ساتھ لوگوں کے پانی تھا تب لوگ آئے ابوبکر صدیق کے پاس اور کہا کہ دیکھا تم نے کیا عائشہ نے ٹھہرا دیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور لوگوں کو اور نہ یہاں پانی ہے نہ ہمارے ساتھ پانی ہے تو ابوبکر آئے میرے پاس اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر میری ران پر رکھے ہوئے سو رہے تھے تو کہا ابوبکر نے روک دیا تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور لوگوں کو اور نہ پانی ملتا ہے نہ ان کے پاس پانی ہے کہا عائشہ نے غصہ ہوئے میرے اوپر ابوبکر اور اپنے ہاتھ سے میری کوکھ میں مارنے لگے تو میں ہل جاتی مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک میری ران پر تھا اس وجہ سے میں نہ ہل سکتی تھی پس سوتے رہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہاں تک کہ صبح ہوئی اور پانی نہ تھا تو اتاری اللہ جل جلالہ نے آیت تیمم کی تب کہا اسی دن اسید بن الحضیر نے کہا اے ابوبکر کے گھر والوں یہ کچھ تمہاری پہلی برکت نہیں ہے یعنی تم سے ہمیشہ ایسی ہی برکتیں اور راحتیں مسلمانوں کو حاصل ہوئی ہیں کہا عائشہ نے جب ہم چلنے لگے تو وہ گلو بن اس اونٹ کے نیچے سے نکلا جس پر ہم سوار تھے ۔
ماخذ
مؤطا امام مالک # ۲/۱۲۰
درجہ
Sahih
زمرہ
باب ۲: پاکیزگی