مؤطا امام مالک — حدیث #۳۴۸۸۷
حدیث #۳۴۸۸۷
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ قَالَ شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَصَلَّى ثُمَّ انْصَرَفَ فَخَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ إِنَّ هَذَيْنِ يَوْمَانِ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ صِيَامِهِمَا يَوْمُ فِطْرِكُمْ مِنْ صِيَامِكُمْ وَالآخَرُ يَوْمٌ تَأْكُلُونَ فِيهِ مِنْ نُسُكِكُمْ . قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ ثُمَّ شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَجَاءَ فَصَلَّى ثُمَّ انْصَرَفَ فَخَطَبَ وَقَالَ إِنَّهُ قَدِ اجْتَمَعَ لَكُمْ فِي يَوْمِكُمْ هَذَا عِيدَانِ فَمَنْ أَحَبَّ مِنْ أَهْلِ الْعَالِيَةِ أَنْ يَنْتَظِرَ الْجُمُعَةَ فَلْيَنْتَظِرْهَا وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَرْجِعَ فَقَدْ أَذِنْتُ لَهُ . قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ ثُمَّ شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - وَعُثْمَانُ مَحْصُورٌ - فَجَاءَ فَصَلَّى ثُمَّ انْصَرَفَ فَخَطَبَ .
ابو عبید سے جو مولیٰ ہیں عبدالرحمن بن ازہر کے روایت ہے کہ میں حاضر ہوا عید کے روز عمر بن خطاب کے ساتھ تو نماز پڑھی حضرت عمر نے پھر فارغ ہوئے اور خطبہ پڑھا تو کہا کہ یہ دو دن وہ دن ہیں کہ منع کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھنے سے ان دنوں میں یہ عید الفطر کا دن ہے جس دن تم روزہ موقوف کرتے ہو اور عید الضحی وہ دن ہے کہ اس دن اپنی قربانی کا گوشت کھاتے ہو ابوعبید نے کہا کہ پھر حاضر ہوا میں عید کو عثمان بن عفان کے ساتھ تو انہوں نے آکر نماز پڑھی پھر نماز سے فارغ ہو کر خطبہ پڑھا اور کہا کہ آج کے روزہ دو عید ہیں تو جس شخص کا جی چاہے باہر والوں سے تو ٹھہر جائے جمعہ کے واسطے اور جو چاہے کہ اپنے گھر جائے تو چلا جائے میں نے اجازت دی کہا ابوعبید نے پھر حاضر ہوا میں عید کو ساتھ علی بن ابی طالب کے اور عثمان گھرے ہوئے تھے تو حضرت علی نے آکر نماز پڑھائی پھر نماز سے فارغ ہو کر خطبہ پڑھا ۔
ماخذ
مؤطا امام مالک # ۱۰/۴۳۲
درجہ
Mauquf Sahih
زمرہ
باب ۱۰: دو عیدیں