مؤطا امام مالک — حدیث #۳۵۰۷۳

حدیث #۳۵۰۷۳
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ إِنَّ فِي الظَّهْرِ نَاقَةً عَمْيَاءَ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ ادْفَعْهَا إِلَى أَهْلِ بَيْتٍ يَنْتَفِعُونَ بِهَا ‏.‏ قَالَ فَقُلْتُ وَهِيَ عَمْيَاءُ فَقَالَ عُمَرُ يَقْطُرُونَهَا بِالإِبِلِ ‏.‏ قَالَ فَقُلْتُ كَيْفَ تَأْكُلُ مِنَ الأَرْضِ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ أَمِنْ نَعَمِ الْجِزْيَةِ هِيَ أَمْ مِنْ نَعَمِ الصَّدَقَةِ فَقُلْتُ بَلْ مِنْ نَعَمِ الْجِزْيَةِ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ أَرَدْتُمْ - وَاللَّهِ - أَكْلَهَا ‏.‏ فَقُلْتُ إِنَّ عَلَيْهَا وَسْمَ الْجِزْيَةِ ‏.‏ فَأَمَرَ بِهَا عُمَرُ فَنُحِرَتْ وَكَانَ عِنْدَهُ صِحَافٌ تِسْعٌ فَلاَ تَكُونُ فَاكِهَةٌ وَلاَ طُرَيْفَةٌ إِلاَّ جَعَلَ مِنْهَا فِي تِلْكَ الصِّحَافِ فَبَعَثَ بِهَا إِلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَيَكُونُ الَّذِي يَبْعَثُ بِهِ إِلَى حَفْصَةَ ابْنَتِهِ مِنْ آخِرِ ذَلِكَ فَإِنْ كَانَ فِيهِ نُقْصَانٌ كَانَ فِي حَظِّ حَفْصَةَ - قَالَ - فَجَعَلَ فِي تِلْكَ الصِّحَافِ مِنْ لَحْمِ تِلْكَ الْجَزُورِ فَبَعَثَ بِهِ إِلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَمَرَ بِمَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِ تِلْكَ الْجَزُورِ فَصُنِعَ فَدَعَا عَلَيْهِ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ لاَ أَرَى أَنْ تُؤْخَذَ النَّعَمُ مِنْ أَهْلِ الْجِزْيَةِ إِلاَّ فِي جِزْيَتِهِمْ ‏.‏
اسلم بن عدوی سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا حضرت عمر بن خطاب سے کہ شتر خانے میں ایک اندھی اونٹنی ہے تو فرمایا حضرت عمر نے وہ اونٹنی کسی گھروالوں کو دے دے تاکہ وہ اس سے نفع اٹھائیں میں نے کہا وہ اندھی ہے حضرت عمر نے کہا اس کو اونٹوں کی قطار میں باندھ دیں گے میں نے کہا وہ چارہ کیسے کھائے گی حضرت عمر نے کہا وہ جزیے کے جانوروں میں سے ہے یا صدقہ کے میں نے کہا وہ جزیے کے حضرت عمر نے کہا و اللہ تم لوگوں نے اس کے کھانے کا ارادہ کیا ہے میں نے کہا نہیں اس پر نشانی جزیہ کی موجود ہے تو حکم کیا حضرت عمر نے اور وہ نحر کی گئی اور حضرت عمر کے پاس نو پیالے تھے جو میوہ یا اچھی چیز آتی آپ ان میں رکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیبیوں کو بھیجا کرتے اور سب سے آخر میں اپنی بیٹی حفصہ کے پاس بھیجتے اگر وہ چیز کم ہوتی تو کمی حفصہ کے حصے میں ہوتی تو پہلے آپ نے گوشت کو پیالوں میں ڈال کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیبیوں کو روانہ کیا بعد اس کے پکانے کا حکم کیا اور سب مہاجرین اور انصار کی دعوت کر دی ۔ امام مالک کو پہنچا کہ عمر بن عبدالعزیز نے لکھ بھیجا اپنے عاملوں کو جو لوگ جزیہ والوں میں سے مسلمان ہوں ان کا جزیہ معاف کریں ۔
ماخذ
مؤطا امام مالک # ۱۷/۶۱۸
درجہ
Mauquf Sahih
زمرہ
باب ۱۷: زکوٰة
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث
موضوعات: #Charity #Mother

متعلقہ احادیث