مؤطا امام مالک — حدیث #۳۵۰۸۰
حدیث #۳۵۰۸۰
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يُخْرِجُ زَكَاةَ الْفِطْرِ عَنْ غِلْمَانِهِ الَّذِينَ، بِوَادِي الْقُرَى وَبِخَيْبَرَ . وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّ أَحْسَنَ، مَا سَمِعْتُ فِيمَا، يَجِبُ عَلَى الرَّجُلِ مِنْ زَكَاةِ الْفِطْرِ أَنَّ الرَّجُلَ يُؤَدِّي ذَلِكَ عَنْ كُلِّ مَنْ يَضْمَنُ نَفَقَتَهُ وَلاَ بُدَّ لَهُ مِنْ أَنْ يُنْفِقَ عَلَيْهِ وَالرَّجُلُ يُؤَدِّي عَنْ مُكَاتَبِهِ وَمُدَبَّرِهِ وَرَقِيقِهِ كُلِّهِمْ غَائِبِهِمْ وَشَاهِدِهِمْ مَنْ كَانَ مِنْهُمْ مُسْلِمًا وَمَنْ كَانَ مِنْهُمْ لِتِجَارَةٍ أَوْ لِغَيْرِ تِجَارَةٍ وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مِنْهُمْ مُسْلِمًا فَلاَ زَكَاةَ عَلَيْهِ فِيهِ . قَالَ مَالِكٌ فِي الْعَبْدِ الآبِقِ إِنَّ سَيِّدَهُ إِنْ عَلِمَ مَكَانَهُ أَوْ لَمْ يَعْلَمْ وَكَانَتْ غَيْبَتُهُ قَرِيبَةً فَهُوَ يَرْجُو حَيَاتَهُ وَرَجْعَتَهُ فَإِنِّي أَرَى أَنْ يُزَكِّيَ عَنْهُ وَإِنْ كَانَ إِبَاقُهُ قَدْ طَالَ وَيَئِسَ مِنْهُ فَلاَ أَرَى أَنْ يُزَكِّيَ عَنْهُ . قَالَ مَالِكٌ تَجِبُ زَكَاةُ الْفِطْرِ عَلَى أَهْلِ الْبَادِيَةِ كَمَا تَجِبُ عَلَى أَهْلِ الْقُرَى وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَضَ زَكَاةَ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ عَلَى النَّاسِ عَلَى كُلِّ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى مِنَ الْمُسْلِمِينَ .
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر صدقہ فطر نکالتے اپنے غلاموں کی طرف سے جو وادی قری اور خیبر میں تھے ۔ کہا مالک نے جو بہتر سنا ہے اس باب میں وہ یہ ہے کہ آدمی اس شخص کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرے جس کا نان ونفقہ اس پر واجب ہے اور اس پر خرچ کرنا ضروری ہے اور اپنے غلام اور مکاتب اور مدبر اور سب کی طرف سے صدقہ ادا کرے خواہ یہ غلام حاضر ہوں یا غائب شرط یہ ہے کہ وہ مسلمان ہوں تجارت کے واسطے ہوں یا نہ ہوں اور جو ان میں مسلمان نہ ہو اس کی طرف سے صدقہ فطر نہ دے ۔
ماخذ
مؤطا امام مالک # ۱۷/۶۲۵
درجہ
Mauquf Sahih
زمرہ
باب ۱۷: زکوٰة