مؤطا امام مالک — حدیث #۳۵۹۷۴

حدیث #۳۵۹۷۴
وقال المالك: إذا جامع الشريك جارية عامة فلا حد له. والآن يصبح الولد المولود لها قرابة، وعلى الشركاء الآخرين دفع نصيبهم بقيمة الجارية، وتكون الجارية له. هذا هو الترتيب وفقا لنا. قال السيد: إذا أذن إنسان في أن يجامع جاريته فإن ذلك إذا جامعها فعليه ثمن العبد سواء كانت حاملا أو غير حامل، ولا حد، فإذا حملت ثبت نسب الولد منها.
کہا مالک نے جو کوئی شریک مشترک لونڈی سے صحبت کرلے تو اس پر حد نہیں ہے اب جو لڑکا پیدا ہوگا اس کا نسب اسی سے لگایا جائے گا اور لونڈی کی قیمت لگا کر باقی شریکوں کو ان کے حصے کو موافق قیمت ادا کرنی ہوگی اور لونڈی پوری اسی کی ہوجائے گی ہمارے نزدیک یہی حکم ہے۔ کہا مالک نے اگر ایک شخص اپنی لونڈی کسی کو مباح کردے (یعنی اس سے جماع کرنے کی اجازت دے دے ہر چند یہ درست نہیں) وہ شخص اس سے جماع کرے تو لونڈی کی قیمت دینی ہوگی خواہ حاملہ ہو یا نہ ہو لیکن حد نہ پڑے گی۔ اگر حاملہ ہوجائے گی تو بچے کا نسب اس سے ثابت کردیں گے۔
ماخذ
مؤطا امام مالک # ۴۱/۱۵۱۹
درجہ
Mauquf Daif
زمرہ
باب ۴۱: حدود
پچھلی حدیث تمام احادیث دیکھیں اگلی حدیث
موضوعات: #Mother

متعلقہ احادیث